سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۴ - بار بار نکلنے والے خوارج
خوارج بار بار ظاہر ہوں گے: قرآن حلق سے نیچے نہ اترے گا
سنن ابن ماجہ : ۱۷۴
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۴
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَنْشَأُ نَشْءٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ " أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً ، " حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا“، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بیسیوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے گروہ کا ذکر فرمایا جو قرآن پڑھے گا مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ پھر فرمایا کہ جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا، ختم کر دیا جائے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بیسیوں بار فرماتے سنا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا۔ اس حدیث کا موضوع خوارج، قرآن کی ظاہری تلاوت، اور بار بار ظاہر ہونے والے گمراہ گروہوں کی تنبیہ ہے۔ اس متن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی بات صرف زبان تک رہ جائے اور دل و عمل میں نہ اترے تو یہ بہت خطرناک راستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی تلاوت کو دل و عمل تک پہنچانا ضروری ہے۔
- خوارج جیسے گروہوں کے بار بار ظاہر ہونے کی تنبیہ آئی ہے۔
- دینی معاملے میں ظاہر کو اکیلا معیار نہیں بنانا چاہیے۔
