صحیح مسلم حدیث ۱۰۶۶ - فجر میں قرأت اور امام کی پیروی
فجر کی نماز میں قرأت اور سجدہ کی پیروی
صحیح مسلم : ۱۰۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۶۶
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ الأَشْجَعِيُّ أَبُو أَحْمَدَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ مَوْلَى آلِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ : فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ ، وَكَانَ لَا يَحْنِي رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ ، حَتَّى يَسْتَتِمَّ سَاجِدًا " .
عمرو بن حریث روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «فَلاَ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ» (یعنی سورۂ «اذا الشمس کورت») پڑھتے ہوئے۔ اور ہم میں کوئی اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح سجدہ میں جاتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں ایک ساتھ آتی ہیں۔ عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی اور آپ صلى الله عليه وسلم کو “فلا أقسم بالخنس الجوار الكنس” پڑھتے سنا، یعنی سورہ تکویر کی آیات۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی اپنی پیٹھ نہ جھکاتا، جب تک آپ صلى الله عليه وسلم پوری طرح سجدہ میں نہ چلے جاتے۔ اس لیے یہ روایت “فجر کی نماز میں قرأت” اور “امام کے بعد سجدہ” دونوں سرچز کے لیے اہم ہے۔ حدیث میں قرأت کا ذکر بھی ہے اور مقتدی کے انتظار کا بھی۔ اصل سبق یہ ہے کہ فجر کی نماز میں بھی امام کی پیروی پورے سکون کے ساتھ کی جاتی تھی، نہ کہ جلد بازی کے ساتھ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فجر میں سورہ تکویر کی آیات پڑھیں۔
- مقتدی امام کے مکمل سجدہ میں جانے کے بعد سجدہ کرتا تھا۔
- فجر کی نماز میں بھی امام کی پیروی کا یہی طریقہ تھا۔
- نماز میں قرأت اور حرکت دونوں میں ترتیب کا خیال رکھا گیا۔
