حدیث ۸۲۰
صحیح مسلم : ۸۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۲۰
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً ، فَقَالَ : لَا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الأَرْضَ ، ثُمَّ تَنْفُخَ ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ ، وَكَفَّيْكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ ، قَالَ الْحَكَمُ ، وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ ، عَنْ ذَرٍّ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ ، فَقَالَ عُمَرُ : نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ .
عبدالرحمٰن بن ابزی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے جنابت ہوئی اور پانی نہ ملا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز نہ پڑھنا۔ سیدنا عماررضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ کو یاد نہیں، جب میں اور آپ لشکر کے ایک ٹکڑے میں تھے پھر ہم کو جنابت ہوئی اور پانی نہ ملا، آپ نے تو نماز نہیں پڑھی لیکن میں مٹی میں لوٹا اور نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کافی تھا اپنی دونوں ہاتھ زمین پر مارنا پھر ان کو پھونکنا پھر مسح کرنا منہ اور دونوں پہنچوں پر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ سے ڈر اے عمار! (یعنی سوچ سمجھ کر حدیث بیان کر) عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ کہیں تو میں یہ حدیث بیان نہیں کروں گا (اگر اس کے چھپانے میں کچھ مصلحت ہو اس لئے کہ خلیفہ کی اطاعت واجب ہے) ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہاری روایت کا بوجھ تمہارے ہی اوپر ہے۔
