سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۳ - خوارج جہنم کے کتے ہیں
خوارج جہنم کے کتے ہیں: سخت ترین تنبیہ
سنن ابن ماجہ : ۱۷۳
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ " .
ابن ابی اوفی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوارج جہنم کے کتے ہیں“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، لیکن اس میں خوارج کے بارے میں نہایت سخت تنبیہ موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوارج جہنم کے کتے ہیں۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ خوارج کا راستہ دین میں بہت خطرناک اور سخت ناپسندیدہ ہے۔ اس حدیث میں تفصیلی نشانیاں بیان نہیں ہوئیں، اس لیے وضاحت کو اسی متن تک محدود رکھنا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ خوارج کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سخت حکم بیان فرمایا۔ اس سے مسلمان کو دین میں شدت، غلط فہمی، اور ایسے راستوں سے بچنے کا سبق ملتا ہے جو انسان کو دین کی اصل روح سے دور کر دیں۔ خوارج کی حدیث، جہنم کے کتے، اور دین سے خروج اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوارج کے بارے میں حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
- دین میں غلط راستہ اختیار کرنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔
- ایسے گروہوں کے بارے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
