سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۲ - عدل پر اعتراض اور خوارج کی بنیاد

خوارج کی ابتدا کا ذکر: قرآن پڑھیں گے مگر حلق سے نیچے نہ اترے گا

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ ، وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلَالٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ ، فَقَالَ : " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ ، أَوْ أُصَيْحَابٍ لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے، اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سے سونا، چاندی اور اموال غنیمت (لوگوں میں) تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک شخص نے کہا: اے محمد! عدل و انصاف کیجئیے، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا برا ہو، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟“، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں جعرانہ کا واقعہ بیان ہوا ہے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونا، چاندی اور غنیمت تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ سے کہا کہ عدل کیجیے، آپ نے عدل نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں عدل نہ کروں تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں اجازت چاہی، مگر آپ نے بتایا کہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کے عدل، خوارج کی پہچان، اور دینی معاملے میں بے ادبی کے خطرے کو واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عدل پر اعتراض بہت سخت بات ہے۔
  • قرآن پڑھنے کے باوجود غلط رویہ انسان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
  • دین میں زبان اور رویے دونوں کا ادب ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں