سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۸ - قیامت کے دن رب کی زیارت

رب کی زیارت قیامت کے دن: چودھویں کے چاند کی مثال

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَكَذَلِكَ لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں مشقت ہوتی ہے“؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، فرمایا: ”اسی طرح قیامت کے دن تمہیں اپنے رب کی زیارت میں کوئی مشکل نہیں ہو گی“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے سوال کیا کہ کیا تمہیں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اسی طرح قیامت کے دن تمہیں اپنے رب کی زیارت میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ اس حدیث میں دیدار الٰہی کو سمجھانے کے لیے ایک آسان اور عام مثال دی گئی ہے، یعنی صاف آسمان میں چودھویں کے چاند کو دیکھنا۔ حدیث کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ قیامت کے دن رب کی زیارت اہل ایمان کے لیے واضح اور بغیر مشقت کے ہوگی۔ یہاں ہمیں اسی متن تک رہتے ہوئے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی مثال صرف دیکھنے کی آسانی کے لیے بیان فرمائی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن رب کی زیارت کا ذکر حدیث میں ہے۔
  • چاند کی مثال دیکھنے کی آسانی سمجھانے کے لیے دی گئی۔
  • صحابہ کو سوال کے ذریعے بات سمجھائی گئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں