سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۰ - صدقہ فطر کا حکم اور مقدار
صدقہ فطر دینے کا واضح حکم
سنن ابن ماجہ : ۱۸۳۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۳۰
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْمُؤَذِّنِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ " .
مؤذن رسول سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور، ایک صاع جو اور ایک صاع سلت (بے چھلکے کا جو) صدقہ فطر میں دینے کا حکم دیا۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صدقہ فطر کے بارے میں واضح حکم دیا کہ اسے ایک صاع کھجور، ایک صاع جو یا ایک صاع سلت (بغیر چھلکے کے جو) کی صورت میں ادا کیا جائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان عید کے دن اپنے ضرورت مند بھائیوں کی مدد کرے اور وہ بھی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ یہ عبادت معاشرتی ہمدردی اور اجتماعی خیرخواہی کو مضبوط کرتی ہے۔ صدقہ فطر ہر صاحب استطاعت پر لازم کیا گیا تاکہ معاشرے میں کوئی شخص عید کے دن بھوکا یا محروم نہ رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ فطر ہر صاحب استطاعت پر واجب ہے
- اس کا مقصد غریبوں کی مدد اور عید کی خوشی ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم نے مخصوص اجناس کے ذریعے ادائیگی کا طریقہ بتایا
