سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۱ - عشر اور خراج کا اصول
زمین کی پیداوار پر عشر اور خراج کا نظام
سنن ابن ماجہ : ۱۸۳۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۳۱
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جُنَيْدٍ الدَّامَغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ الْمُرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُغِيرَةَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ حَيَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، أَوْ إِلَى هَجَرَ ، فَكُنْتُ آتِي الْحَائِطَ يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ يُسْلِمُ أَحَدُهُمْ ، فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ ، وَمِنَ الْمُشْرِكِ الْخَرَاجَ " .
علاء بن حضرمی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بحرین ہجر بھیجا، میں ایک باغ میں جاتا جو کئی بھائیوں میں مشترک ہوتا، اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا، تو میں مسلمان سے عشر (دسواں) حصہ لیتا، اور کافر سے خراج (محصول) لیتا۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا علاء بن حضرمیؓ کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بحرین بھیجا جہاں وہ باغات اور زمینوں سے عشر اور خراج وصول کرتے تھے۔ اگر مالک مسلمان ہوتا تو اس سے پیداوار کا دسواں حصہ (عشر) لیا جاتا، اور اگر غیر مسلم ہوتا تو اس سے خراج لیا جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے مالی نظام میں انصاف رکھا ہے اور ہر شخص کے ایمان اور حالت کے مطابق مالی ذمہ داری مقرر کی گئی ہے۔ یہ نظام معاشرے میں توازن اور عدل قائم کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان سے عشر لیا جاتا ہے
- غیر مسلم سے خراج لیا جاتا ہے
- اسلامی نظام معیشت عدل پر قائم ہے
