سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۲ - ایک وسق کی مقدار
وسق اور صاع کی شرعی پیمائش
سنن ابن ماجہ : ۱۸۳۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۳۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا کہ ایک وسق ساٹھ صاع کے برابر ہوتا ہے۔ یہ پیمائش اسلامی مالی معاملات اور زکوٰۃ وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے۔ اس سے مسلمانوں کو اجناس اور پیداوار کی مقدار سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ شریعت نے وزن اور پیمائش کے اصول واضح کر کے لوگوں کے درمیان جھگڑے اور الجھن کو ختم کیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک وسق ساٹھ صاع کے برابر ہے
- اسلام نے پیمائش کے اصول واضح کیے ہیں
- مالی عبادات میں درست مقدار ضروری ہے
