سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۳ - وسق کی وضاحت
وسق کی مقدار کا شرعی اصول
سنن ابن ماجہ : ۱۸۳۳
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۳۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا " .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے وسق کی مقدار ساٹھ صاع مقرر فرمائی۔ یہ بات مختلف صحابہ کرامؓ سے روایت ہوئی ہے تاکہ اس پیمائش میں کوئی شک باقی نہ رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں مالی معاملات میں وضاحت اور شفافیت کو بہت اہمیت دی گئی ہے تاکہ ہر شخص آسانی سے عمل کر سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وسق کی مقدار ساٹھ صاع ہے
- اسلام میں پیمائش واضح اور متفق علیہ ہے
- مالی نظام میں شفافیت ضروری ہے
