سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۵ - رشتہ داروں پر صدقہ کا حکم
رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کی اجازت
سنن ابن ماجہ : ۱۸۳۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۳۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ " ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ : أَيُجْزِينِي مِنَ الصَّدَقَةِ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى زَوْجِي وَهُوَ فَقِيرٌ ، وَبَنِي أَخٍ لِي أَيْتَامٍ ، وَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ هَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : " وَكَانَتْ صَنَاعَ الْيَدَيْنِ " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میری زکاۃ ادا ہو جائے گی اگر میں اپنے شوہر پہ جو محتاج ہیں، اور اپنے بھتیجوں پہ جو یتیم ہیں صدقہ کروں، اور میں ہر حال میں ان پر ایسے اور ایسے خرچ کرتی ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دست کاری کرتی تھیں (اور پیسے کماتی تھیں)۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ ایک عورت نے نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی زکوٰۃ اپنے غریب شوہر اور یتیم بھتیجوں پر خرچ کر سکتی ہے؟ تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اجازت دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ اور صدقہ میں قریبی رشتہ داروں کی مدد کرنا جائز ہے، خاص طور پر جب وہ ضرورت مند ہوں۔ یہ عمل دو فائدے دیتا ہے: صدقہ بھی ادا ہوتا ہے اور صلہ رحمی بھی ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غریب رشتہ داروں پر صدقہ کرنا جائز ہے
- زکوٰۃ میں نیت درست ہو تو اہل خانہ کی مدد کی جا سکتی ہے
- صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کا اجر ملتا ہے
