سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۶ - خود محنت کرنا اور سوال سے بچنا
محنت کی زندگی اور سوال سے پرہیز
سنن ابن ماجہ : ۱۸۳۶
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۳۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ ، فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ ، فَيَجِئَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ ، أَوْ مَنَعُوهُ " .
زبیر بن عوام روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور پہاڑ پر جا کر ایک گٹھا لکڑیوں کا اپنی پیٹھ پر لادے، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت پر قناعت کرے، تو یہ اس کے لیے لوگوں کے سامنے مانگنے سے بہتر ہے کہ لوگ دیں یا نہ دیں“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سکھایا کہ اگر کوئی شخص اپنی رسی لے کر پہاڑ سے لکڑیاں جمع کرے اور انہیں بیچ کر اپنی روزی کمائے تو یہ لوگوں سے مانگنے سے بہتر ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام محنت اور خودداری کو پسند کرتا ہے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو ناپسند کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محنت کر کے روزی کمانا افضل ہے
- سوال کرنے سے بچنا چاہیے
- خودداری اسلام کی پسندیدہ صفت ہے
