سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۴ - والد کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

نکاح میں مشورہ اور رضامندی کی اہمیت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۷۴

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ : قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ ، أَنْ لَيْسَ إِلَى الْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ " .

بریدہ روایت:

ایک نوجوان عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی عرض کیا: میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی ذلت ختم ہو جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اختیار دے دیا، تو اس نے کہا: میرے والد نے جو کیا میں نے اسے مان لیا، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے باپوں کو ان پر (جبراً نکاح کر دینے کا) اختیار نہیں پہنچتا۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہے کہ ایک عورت کا نکاح اس کے والد نے اس کی مرضی کے بغیر کیا تھا۔ جب وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے اختیار دیا۔ اس نے بعد میں اپنی رضا سے فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ نکاح میں عورت کی رائے اور رضامندی ضروری ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح میں عورت کی مرضی اہم ہے
  • والد کو بھی مشورہ کرنا چاہیے
  • اسلام انصاف اور اختیار دیتا ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں