سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۵ - عورت کا نکاح میں اختیار
عورت کا حقِ اختیار اور نکاح کی آزادی
سنن ابن ماجہ : ۱۸۷۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۷۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
´اس سند سے بھی` ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۵ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی یہی واقعہ بیان ہوا ہے کہ جب ایک عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کیا گیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے اختیار دیا۔ اس نے بعد میں اپنے والد کے فیصلے کو قبول کیا مگر یہ واضح کیا کہ عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نکاح کے بارے میں رائے دے۔ اس سے اسلام میں عورت کے حقِ انتخاب کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورت کو نکاح میں اختیار دیا گیا ہے
- جبر کی اجازت نہیں
- اسلام میں رضامندی بنیادی اصول ہے
