سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۶ - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اور ابتدائی زندگی

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۷۶

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي حَتَّى وَفَى لَهُ جُمَيْمَةٌ ، فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبَاتٌ لِي ، فَصَرَخَتْ بِي ، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ ، فَأَخَذَتْ بِيَدِي ، فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ ، وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي ، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ عَلَى وَجْهِي وَرَأْسِي ، ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ، فَقُلْنَ : عَلَى الْخَيْرِ ، وَالْبَرَكَةِ ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ضُحًى فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے، مجھے بخار آ گیا اور میرے بال جھڑ گئے، پھر بال بڑھ کر مونڈھوں تک پہنچ گئے، تو میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں، میں ایک جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری کئی سہیلیاں تھیں، ماں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس گئی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں؟آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ پر لا کھڑا کیا، اس وقت میرا سانس پھول رہا تھا، یہاں تک کہ میں کچھ پرسکون ہو گئی، پھر میری ماں نے تھوڑا سا پانی لے کر اس سے میرا منہ دھویا اور سر پونچھا، پھر مجھے گھر میں لے گئیں، وہاں ایک کمرہ میں انصار کی کچھ عورتیں تھیں، انہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا: ”تم خیر و برکت اور بہتر نصیب کے ساتھ جیو“، میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے مجھے آراستہ کیا، میں کسی بات سے خوف زدہ نہیں ہوئی مگر اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت اچانک تشریف لائے، اور ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان سے نکاح کیا اور وہ کم عمر تھیں۔ پھر مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی۔ اس روایت میں ان کی ابتدائی زندگی کے حالات بھی بیان ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ سیرت کا اہم حصہ ہے جو مختلف احادیث میں آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح کا ذکر سیرت کے اہم واقعات میں سے ہے
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی اہم تاریخی حیثیت رکھتی ہے
  • اسلامی تاریخ کے واقعات محفوظ طریقے سے منتقل ہوئے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں