سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۳ - شغار نکاح کی ممانعت

شغار نکاح کی ممانعت اور اسلامی اصول

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۸۳

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنَ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ ، وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ ، أَوْ زوجني أُخْتَكَ عَلَى أَنْ أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي ، أَوْ أُخْتِي ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہے: آپ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے اس شرط پر کر دیں کہ میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تجھ سے کر دوں گا، اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں شغار نکاح سے منع کیا گیا ہے، جس میں دو افراد ایک دوسرے کی بیٹی یا بہن کا نکاح بغیر مہر کے کرتے ہیں۔ یہ طریقہ اسلام میں درست نہیں کیونکہ اس میں عورت کے حقِ مہر کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اسلام نکاح کو عدل اور حق پر مبنی بناتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شغار نکاح منع ہے
  • مہر عورت کا حق ہے
  • نکاح میں انصاف ضروری ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں