سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۲ - عورت خود نکاح نہیں کر سکتی

نکاح میں ولی اور شرعی نظم

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۸۲

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا ، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں فرمایا گیا کہ عورت نہ خود اپنا نکاح کرے اور نہ کسی دوسری عورت کا نکاح کرائے۔ نکاح ایک شرعی نظام کے تحت ہوتا ہے جس میں ولی کا کردار اہم ہے۔ اس کا مقصد نظام کو درست رکھنا اور غلط استعمال سے بچانا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح ولی کے ذریعے ہونا چاہیے
  • خود نکاح کرنا درست نہیں
  • اسلامی نظام نکاح منظم ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں