سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۵ - اسلام میں شغار نہیں

اسلام میں شغار نکاح کی نفی

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۸۵

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں شغار نہیں ہے“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں واضح فرمایا گیا کہ اسلام میں شغار نکاح نہیں ہے۔ یعنی ایسا نکاح جو بغیر مہر یا بدلے کی بنیاد پر ہو، وہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ نکاح ایک پاکیزہ معاہدہ ہے جو عدل اور رضامندی پر قائم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اسلام میں شغار نکاح نہیں
  • نکاح میں مہر لازمی ہے
  • اسلام عدل کا نظام دیتا ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں