سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کا مہرِ نکاح
نکاح میں مہر کی مقدار اور سادگی
سنن ابن ماجہ : ۱۸۸۶
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۸۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : " كَانَ صَدَاقُهُ فِي أَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً ، وَنَشًّا هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ ؟ هُوَ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ ، وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ " .
ابوسلمہ روایت:
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ازواج کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا جو تقریباً پانچ سو درہم بنتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح میں سادگی اختیار کی گئی اور مہر کو بہت زیادہ نہیں رکھا گیا۔ اسلام آسانی کو پسند کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں سادگی بہتر ہے
- مہر اعتدال میں ہونا چاہیے
- نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت سادگی پر مبنی ہے
