سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۰۹ - ولیمہ میں سادگی کی سنت

ولیمہ میں سادگی اور کھجور و ستو کی سنت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۰۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، وَغِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ " .

انس بن مالک روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ بہت سادہ انداز میں کیا، جس میں صرف ستو اور کھجور پیش کیے گئے۔ اس سے ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ اسلام میں شادی اور ولیمہ کو مشکل یا بھاری بنانے کی بجائے آسان اور سادہ رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ولیمہ کا مقصد خوشی کا اظہار ہے نہ کہ دکھاوا۔ آج کے دور میں بھی ہمیں ولیمہ میں فضول خرچی سے بچ کر سنت کے مطابق سادگی اختیار کرنی چاہیے تاکہ برکت اور آسانی پیدا ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولیمہ میں سادگی اختیار کرنا سنت ہے
  • دکھاوے اور فضول خرچی سے بچنا چاہیے
  • شادی کی خوشی کو آسان اور بابرکت بنانا بہتر ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں