سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۰ - سادہ ولیمہ اور کفایت شعاری
ولیمہ میں سادگی اور کم وسائل پر اکتفا
سنن ابن ماجہ : ۱۹۱۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۱۰
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " شَهِدْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا لَحْمٌ ، وَلَا خُبْزٌ " ، قَالَ ابْن مَاجَةَ : لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا ابْنُ عُيَيْنَةَ .
انس بن مالک روایت:
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۰ کا خلاصہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم کے ایک ولیمہ میں شرکت کی جہاں نہ گوشت تھا نہ روٹی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ شادی کے موقع پر مہنگے کھانوں یا بڑی دعوتوں کا ہونا ضروری نہیں۔ اصل مقصد نکاح کی خوشی کو ظاہر کرنا ہے، نہ کہ معاشرتی دباؤ یا دکھاوا۔ اسلام ہمیں کفایت شعاری سکھاتا ہے تاکہ انسان اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرے اور قرض یا بوجھ میں نہ پڑے۔ آج کے معاشرے میں یہ حدیث خاص طور پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ اپنی استطاعت کے مطابق ہونا چاہیے
- سادہ دعوت بھی سنت کے مطابق ہے
- فضول خرچ سے بچنا ضروری ہے
