سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۲ - سادہ مشروب اور سنت ولیمہ

ولیمہ میں کھجور کا سادہ شربت اور مہمان نوازی

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۱۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُرْسِهِ ، فَكَانَتْ خَادِمَهُمُ الْعَرُوسُ ، قَالَتْ : " تَدْرِي مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : أَنْقَعْتُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ صَفَّيْتُهُنَّ فَأَسْقَيْتُهُنَّ إِيَّاهُ " .

سہل بن سعد ساعدی روایت:

ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا شربت پلایا۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۲ کا خلاصہ

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ولیمہ میں سیدہ دلہن نے نبی صلى الله عليه وسلم کو کھجور کا سادہ شربت پلایا جو رات بھر کھجور بھگو کر بنایا گیا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مہمان نوازی کے لیے مہنگے یا پیچیدہ انتظامات ضروری نہیں۔ سادہ چیزیں بھی محبت اور برکت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ وسائل کم ہوں تب بھی خوشی اور عزت کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کی جا سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سادہ مشروب بھی مہمان نوازی کے لیے کافی ہے
  • ولیمہ میں اخلاص اہم ہے
  • کم وسائل میں بھی خدمت ممکن ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں