سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۳ - ولیمہ میں غریبوں کا حق
ولیمہ میں انصاف اور غریبوں کی شمولیت
سنن ابن ماجہ : ۱۹۱۳
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۱۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ ، وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۳ کا خلاصہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سب سے برا کھانا وہ ولیمہ ہے جس میں صرف امیروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نظر انداز کیا جائے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں دعوتوں میں مساوات اور انصاف ضروری ہے۔ ولیمہ کا مقصد خوشی کو بانٹنا ہے، نہ کہ لوگوں میں فرق پیدا کرنا۔ اگر صرف امیروں کو بلایا جائے تو یہ معاشرتی ناانصافی بن جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت میں سب کو شامل کرنا چاہیے
- غریبوں کو نظر انداز کرنا غلط ہے
- اسلام مساوات کا درس دیتا ہے
