سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۴ - ولیمہ کی دعوت قبول کرنا

ولیمہ کی دعوت قبول کرنے کی اہمیت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۱۴

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ ، فَلْيُجِبْ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے“ ۱؎۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۴ کا خلاصہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت قبول کرنا اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔ اس میں تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور محبت بڑھتی ہے۔ بلاوجہ دعوت کو رد کرنا اچھا عمل نہیں سمجھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولیمہ کی دعوت قبول کرنا سنت ہے
  • رشتوں اور تعلقات کو مضبوط کرنا چاہیے
  • بلا وجہ دعوت رد نہیں کرنی چاہیے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں