سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۵ - ولیمہ کے دنوں کی حد
ولیمہ میں اعتدال اور دکھاوے سے بچاؤ
سنن ابن ماجہ : ۱۹۱۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ ، وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ ، وَالثَّالِثَ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن عرف اور دستور کے موافق، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۵ کا خلاصہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن معروف کے مطابق ہے، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت بن جاتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خوشی کے موقع پر بھی حد سے زیادہ نہ بڑھا جائے۔ اسلام اعتدال کو پسند کرتا ہے اور دکھاوے سے منع کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ میں اعتدال ضروری ہے
- زیادہ دن تک دعوت دکھاوا بن سکتی ہے
- اسلام سادگی اور توازن سکھاتا ہے
