سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۷ - ازواج کے درمیان عدل
ازدواجی زندگی میں انصاف اور محبت کا توازن
سنن ابن ماجہ : ۱۹۱۷
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ، وَقَالَ : " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: ”تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۱۷ کا خلاصہ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں آتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے ساتھ تین دن قیام فرمایا اور فرمایا کہ اگر وہ چاہیں تو سات دن بھی رہ سکتے ہیں۔ لیکن پھر سب ازواج کے ساتھ برابر وقت گزارا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں انصاف اور برابری بہت اہم ہے، خاص طور پر ازدواجی زندگی میں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ازواج کے درمیان انصاف ضروری ہے
- محبت کے ساتھ عدل بھی اہم ہے
- حقوق میں برابری کا خیال رکھنا چاہیے
