سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۲۵ - یہودیوں کی غلط فہمی کا رد
ازدواجی تعلق کے بارے میں غلط تصورات کا رد
سنن ابن ماجہ : ۱۹۲۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۲۵
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَانَتْ يَهُودُ ، تَقُولُ : مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا مِنْ دُبُرِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 " .
جابر بن عبداللہ روایت:
یہود کہتے تھے کہ جس نے بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کیا تو لڑکا بھینگا ہو گا، چنانچہ اللہ سبحانہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:«نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» (سورة البقرة: 223) ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہٰذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ“ ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۲۵ کا خلاصہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی بعض غلط باتیں کہتے تھے، جنہیں قرآن نے رد کیا اور واضح کیا کہ بیوی کے ساتھ جائز طریقے سے تعلق کسی بھی انداز سے کیا جا سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام غلط نظریات کو ختم کر کے صحیح رہنمائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلط عقائد کو رد کرنا ضروری ہے
- قرآن صحیح رہنمائی دیتا ہے
- ازدواجی تعلق میں جائز حدود واضح ہیں
