سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۲۶ - عزل کے بارے میں سوال
عزل اور تقدیر کا عقیدہ
سنن ابن ماجہ : ۱۹۲۶
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۲۶
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ؟ ، فَقَالَ : " أَوَ تَفْعَلُونَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا ، أَنْ تَكُونَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
ابو سعید خدری روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی“۔ ۱؎
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۲۶ کا خلاصہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عزل کے بارے میں سوال کیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو جان اللہ نے پیدا کرنی ہو وہ ضرور پیدا ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق اور اولاد اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ انسان کو تدبیر کرنی چاہیے لیکن نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اولاد اللہ کے حکم سے ہوتی ہے
- تقدیر پر ایمان ضروری ہے
- انسان کی تدبیر محدود ہے
