حدیث ۲۰۵۱
سنن ابن ماجہ : ۲۰۵۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۰۵۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ؟ ، فَقَالَ : " مَا أَرَدْتَ بِهَا ؟ " ، قَالَ : وَاحِدَةً ، قَالَ : " آللَّهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً ، قَالَ : آللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً " ، قَالَ : فَرَدَّهَا عَلَيْهِ ، قَالَ مُحَمَّد بْن مَاجَةَ : سَمِعْت أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ : مَا أَشْرَفَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ ابْن مَاجَةَ : أَبُو عُبَيْدٍ تَرَكَهُ نَاجِيَةُ وَأَحْمَدُ جَبُنَ عَنْهُ .
´رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ (قطعی طلاق) دے دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تم نے اس سے کیا مراد لی ہے“؟ انہوں نے کہا: ایک ہی مراد لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے“؟، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ۱؎۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا: یہ حدیث کتنی عمدہ ہے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ہیں۔
