سنن ابن ماجہ حدیث ۲۱۱ - قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت
قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت والی حدیث
سنن ابن ماجہ : ۲۱۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۱۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ شُعْبَة : " خَيْرُكُمْ " ، وَقَالَ سُفْيَانُ : " أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
عثمان بن عفان روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(شعبہ کہتے ہیں:) تم میں سب سے بہتر (کہا)، (اور سفیان نے کہا:) تم میں سب سے افضل (کہا) وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تعلیم قرآن ہے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر، یا سب سے افضل، وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اس حدیث میں قرآن سیکھنے اور قرآن سکھانے کی فضیلت بہت صاف لفظوں میں بیان ہوئی ہے۔ مسلمان کے لیے قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ سیکھنے، سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی امانت ہے۔ جو شخص خود قرآن سیکھتا ہے اور پھر دوسروں کو سکھاتا ہے، وہ ایک بہت اچھے کام میں لگتا ہے۔ یہ حدیث والدین، اساتذہ، طلبہ اور ہر قرآن پڑھنے والے کے لیے بڑی ترغیب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن سیکھنا بہت فضیلت والا عمل ہے۔
- قرآن سکھانا بھی بڑی نیکی ہے۔
- بہترین لوگوں میں شامل ہونے کا راستہ قرآن کی تعلیم سے جڑا ہے۔
- علم قرآن خود تک محدود نہ رکھا جائے۔
