سنن ابن ماجہ حدیث ۲۱۵ - اہل قرآن کی فضیلت
اہل قرآن کون ہیں؟ اللہ والوں کی فضیلت والی حدیث
سنن ابن ماجہ : ۲۱۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۱۵
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے کچھ اللہ والے ہیں“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قرآن پڑھنے پڑھانے والے ہیں، جو اللہ والے اور اس کے نزدیک خاص لوگ ہیں“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اہل قرآن ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: لوگوں میں کچھ اللہ والے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: وہ قرآن پڑھنے پڑھانے والے ہیں، جو اللہ والے اور اس کے نزدیک خاص لوگ ہیں۔ یہ حدیث اہل قرآن کی بڑی فضیلت بیان کرتی ہے۔ قرآن سے تعلق صرف آواز یا الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ پڑھنے، پڑھانے اور اس کے ساتھ وابستہ رہنے کا نام ہے۔ جو لوگ قرآن کی خدمت میں لگے رہتے ہیں، انہیں اس حدیث میں بہت عزت دی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن سے وابستہ لوگ بڑی فضیلت رکھتے ہیں۔
- اہل قرآن کو اللہ والے کہا گیا ہے۔
- قرآن پڑھنا اور پڑھانا دونوں اس نسبت میں شامل ہیں۔
- قرآن کے ساتھ مستقل تعلق عزت کا سبب ہے۔
