سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۱۰ - خرید و فروخت میں جھوٹی قسم کی ممانعت
تجارت میں سچ بولنے کی تعلیم
سنن ابن ماجہ : ۲۲۱۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۱۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ .
´اس سند سے بھی` ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۱۰ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی اصول کو مضبوط کرتی ہے کہ کاروبار میں قسموں کا استعمال مناسب نہیں۔ جب کوئی تاجر اپنی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے تو اس سے خریدار کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ لین دین صاف اور شفاف ہو۔ اس حدیث کا مرکزی سبق یہ ہے کہ حلال روزی میں سچائی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ جھوٹی قسم سے وقتی فائدہ تو ممکن ہے مگر دل کی سکون اور برکت ختم ہو جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تجارت میں جھوٹی قسم سے پرہیز ضروری ہے
- سچائی اعتماد اور برکت لاتی ہے
- دھوکہ دہی سے بچنا ایمان کا حصہ ہے
