سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۰۹ - خرید و فروخت میں جھوٹی قسم سے بچاؤ
خرید و فروخت میں جھوٹی قسم سے پرہیز کی اہمیت
سنن ابن ماجہ : ۲۲۰۹
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۰۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْحَلِفَ فِي الْبَيْعِ ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ " .
ابوقتادہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع (خرید و فروخت) میں قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے اور برکت جاتی رہتی ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا کہ خرید و فروخت کے دوران قسمیں کھانے سے بچنا چاہیے۔ آج کے دور میں بعض لوگ چیز بیچتے وقت زیادہ گاہک لانے کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ اس سے وقتی طور پر تو چیز کی خرید و فروخت بڑھ جاتی ہے لیکن اصل فائدہ یعنی برکت ختم ہو جاتی ہے۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ کاروبار میں سچائی اختیار کی جائے۔ "نیت کی درستگی" اور "حلال رزق" کو ترجیح دی جائے۔ جھوٹی قسم نہ صرف اعتماد ختم کرتی ہے بلکہ معاشی برکت کو بھی کم کر دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کاروبار میں جھوٹی قسم سے بچنا چاہیے
- وقتی فائدہ برکت کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے
- سچائی تجارت میں اعتماد پیدا کرتی ہے
