سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۱۲ - درخت اور غلام کی مشترکہ بیع
اکٹھے مال کی بیع کا اصول
سنن ابن ماجہ : ۲۲۱۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۱۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلًا وَبَاعَ عَبْدًا جَمَعَهُمَا جَمِيعًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کھجور کا درخت بیچے، اور کوئی غلام بیچے تو وہ ان دونوں کو اکٹھا بیچ سکتا ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ کھجور کے درخت اور غلام کو ایک ساتھ بھی بیچا جا سکتا ہے۔ اسلام تجارت میں آسانی پیدا کرتا ہے اور ایسے معاملات کو جائز رکھتا ہے جن میں واضح معاہدہ ہو۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ خرید و فروخت میں اصل اہمیت شرط اور رضامندی کی ہے۔ اگر دونوں فریق متفق ہوں تو ایک سے زیادہ چیزیں ایک ساتھ بیچی جا سکتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- معاہدے کی بنیاد رضامندی ہے
- ایک ساتھ متعدد چیزوں کی بیع جائز ہے
- اسلام تجارت میں آسانی پیدا کرتا ہے
