سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۱۷ - غیر مکمل پیداوار کی بیع کی ممانعت
ادھوری پیداوار کی فروخت سے بچاؤ
سنن ابن ماجہ : ۲۲۱۷
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۱۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ پکنے کے قریب ہو جائے، اور انگور کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے، اور غلے کی بیع سے (بھی منع کیا ہے) یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں مختلف چیزوں جیسے پھل، انگور اور غلے کی قبل از وقت فروخت سے منع کیا گیا ہے۔ جب تک چیز مکمل تیار نہ ہو، اس کی بیع درست نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہر اس لین دین سے روکتا ہے جس میں غیر یقینی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر مکمل چیز کی بیع درست نہیں
- نقصان سے بچاؤ ضروری ہے
- معاشی شفافیت اسلام کا اصول ہے
