سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۱۸ - سالوں کے لیے بیع سے ممانعت

لمبی مدت کے غیر یقینی معاہدے

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۱۸

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے (پھلوں کی) بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایسے معاہدوں سے منع کیا گیا ہے جن میں کئی سالوں تک پیداوار کی فروخت شامل ہو اور نتیجہ غیر یقینی ہو۔ اسلام ایسے کاروبار کو پسند نہیں کرتا جس میں نقصان کا خدشہ زیادہ ہو۔ اس سے معاشی انصاف قائم رہتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غیر یقینی معاہدے سے بچنا چاہیے
  • لمبی مدت کی بیع میں احتیاط ضروری ہے
  • اسلامی تجارت میں خطرے سے بچاؤ اہم ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں