سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۲۳ - کم تولنے والوں کے لیے وعید

ناپ تول میں کمی کی سخت تنبیہ

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۲۳

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے ناپ تول میں سب سے برے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويل للمطففين» ”خرابی ہے کم تولنے والوں کے لیے الخ“ اتاری اس کے بعد وہ ٹھیک ٹھیک ناپنے لگے۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا کہ مدینہ کے لوگ پہلے ناپ تول میں کمی کرتے تھے، پھر قرآن کی آیت نازل ہونے کے بعد انہوں نے اصلاح کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام معاشی بددیانتی کو سختی سے روکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کم تولنا سخت گناہ ہے
  • قرآن اصلاح کا ذریعہ ہے
  • تجارت میں دیانت ضروری ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں