سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۳۲ - نقصان کا بدلہ
نقصان کے برابر بدلہ دینا
سنن ابن ماجہ : ۲۳۳۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۳۳۲
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ نَاقَةً لِآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
براء بن عازب روایت:
براء کے گھر والوں کی ایک اونٹنی نے کسی کا نقصان کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اسی کے برابر واپس لوٹانے کا فرمایا۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ذکر ہے کہ ایک اونٹنی نے کسی کا نقصان کیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اسی کے برابر بدلہ دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نقصان کا بدلہ بھی انصاف کے ساتھ اور برابر کے اصول پر دیا جاتا ہے۔ نہ زیادتی کی اجازت ہے اور نہ کمی کی۔ یہ اصول معاشرتی جھگڑوں کو کم کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نقصان کا بدلہ انصاف کے ساتھ دیا جاتا ہے
- اسلام میں زیادتی کی اجازت نہیں
- ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے
