صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۰ - سردی بارش میں گھروں میں نماز
سردی اور بارش میں گھروں میں نماز: اذان کے بعد اعلان
صحیح مسلم : ۱۶۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ، فَقَالَ : أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ، ذَاتُ مَطَرٍ ، يَقُولُ : أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " .
نافع روایت:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز کی اذان دی ایک رات میں کہ سردی اور آندھی کی رات تھی تو کہا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب رات سردی کی اور بارش کی ہو تو اذان کے بعد کہہ دیا کرو پکار کر گھروں میں نماز پڑھو۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع عذر کی حالت میں گھروں میں نماز پڑھنے کا اعلان ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد اور آندھی والی رات نماز کی اذان دی، پھر کہا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ جب رات سرد اور بارش والی ہو تو اذان کے بعد پکار کر کہہ دے: گھروں میں نماز پڑھو۔ یہ روایت قصر نماز کے بعد اسی باب میں آئی ہے، مگر اس کا موضوع موسم کی سختی اور جماعت کے لیے آسانی کا اعلان ہے۔ سرچ کے لیے سردی بارش میں نماز، گھروں میں نماز پڑھو حدیث، اور اذان میں صلوا فی الرحال جیسے الفاظ بہت مناسب ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سرد اور آندھی والی رات کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اذان کے بعد گھروں میں نماز پڑھنے کو کہا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو ایسے موقع پر اعلان کا حکم دیتے تھے۔
- حدیث میں سردی اور بارش کی رات کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔
