صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۱ - بارش میں گھروں میں نماز
بارش میں گھروں میں نماز: صلوا في رحالكم کی آسان تعلیم
صحیح مسلم : ۱۶۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ ، وَرِيحٍ ، وَمَطَرٍ ، فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ : أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ، أَوْ ذَاتِ مَطَرٍ فِي السَّفَرِ ، أَنْ يَقُولَ : أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اذان دی نماز کی ایسی رات میں کہ اس میں سردی اور ٹھنڈی ہوا تھی اور بارش تھی۔ پھر اذان کے آخر میں کہہ دیا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ جب سردی کی اور مینہ کی رات ہو سفر میں تو لوگوں کو پکار دے کہ اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بارش میں گھروں میں نماز اور سفر کی آسانی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ایسی رات اذان دی جس میں سردی، ٹھنڈی ہوا اور بارش تھی۔ اذان کے آخر میں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اپنے گھروں یا ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ پھر انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ایسی سرد یا بارش والی رات مؤذن کو یہی اعلان کرنے کا حکم دیتے تھے۔ اس سے بات صاف ہوتی ہے کہ نماز اپنی جگہ بہت اہم ہے، مگر جب موسم سخت ہو اور لوگوں کو مشقت ہو تو شریعت آسانی بھی دیتی ہے۔ یہاں حکم خاص طور پر سفر، سردی، ہوا اور بارش کے ساتھ بیان ہوا ہے، اس لیے بات کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سردی، ہوا اور بارش جیسے عذر میں لوگوں پر آسانی کی گنجائش رکھی گئی۔
- اذان کے ذریعے لوگوں کو واضح طور پر بتایا جا سکتا ہے کہ گھروں میں نماز پڑھ لیں۔
- دینی عمل میں لوگوں کی واقعی مشقت کا خیال رکھا گیا ہے۔
