صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۳ - سفر کی رخصت
سفر میں بارش ہو تو اپنے ٹھکانے پر نماز کی اجازت
صحیح مسلم : ۱۶۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح ، وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمُطِرْنَا ، فَقَالَ : لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ " .
جابر روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اور مینہ برسا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا جی چاہے وہ اپنے بستر پر نماز پڑھ لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سفر کے دوران بارش میں نماز کی آسانی بہت صاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، پھر بارش ہوئی۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس کا جی چاہے وہ اپنے بستر یا قیام کی جگہ پر نماز پڑھ لے۔ اس میں زور زبردستی کا انداز نہیں، بلکہ سہولت کا انداز ہے۔ بارش میں گھروں میں نماز یا سفر میں اپنے رحل پر نماز کا اصل مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ سخت موسم میں لوگوں کو غیر ضروری مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ اس حدیث کو اسی بیان تک محدود رکھنا چاہیے: سفر، بارش، اور نفل یا جماعت سے متعلق رخصت کے موقع پر آسانی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں بارش ہو تو قیام گاہ پر نماز کی اجازت بیان ہوئی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے حال کو دیکھ کر آسان لفظوں میں رخصت دی۔
- رخصت کو اسی موقع کے ساتھ سمجھنا چاہیے جس میں بارش اور سفر کا ذکر ہے۔
