صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۴ - اذان رخصت
اذان میں صلوا في بيوتكم: بارش میں گھروں میں نماز
صحیح مسلم : ۱۶۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰۴
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ : إِذَا قُلْتَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَلَا تَقُلْ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قُلْ : صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ ، قَالَ : فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَاكَ ، فَقَالَ : أَتَعْجَبُونَ مِنْ ذَا ، قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُوا فِي الطِّينِ ، وَالدَّحْضِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن سے کہا جس دن مینہ تھا کہ جب تم شہادتیں کہہ چکو «حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ» نہ کہو بلکہ کہو «صَلُّوا فِى بُيُوتِكُمْ» اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو تو لوگوں کو یہ بات نئی معلوم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تم کو اس سے تعجب ہوا۔ یہ تو اس نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) جمعہ اگرچہ واجب ہے مگر مجھے برا معلوم ہوا کہ میں تمہیں تکلیف دوں اور تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۴ کا خلاصہ
یہ روایت بارش کے دن اذان میں صلوا في بيوتكم کہنے کے بارے میں بہت واضح ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن سے کہا کہ جب شہادتیں کہہ چکو تو «حي على الصلاة» کے بجائے «صلوا في بيوتكم» کہو، یعنی اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ لوگوں کو یہ بات نئی محسوس ہوئی، تو انہوں نے سمجھایا کہ یہ کام ان سے بہتر شخصیت، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ پھر انہوں نے وجہ بھی بتائی کہ جمعہ واجب ہے، مگر وہ نہیں چاہتے کہ لوگ کیچڑ اور پھسلن میں چل کر تکلیف اٹھائیں۔ اس حدیث میں اصل پیغام یہ ہے کہ بارش، کیچڑ اور پھسلن جیسے عذر میں نماز کے معاملے میں آسانی دی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بارش کے دن اذان میں گھروں میں نماز کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
- کیچڑ اور پھسلن جیسی مشقت کا خیال رکھا گیا۔
- صحابی نے اپنی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے جوڑا۔
