صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۷ - جمعہ رخصت
جمعہ کے دن بارش: کیچڑ اور پھسلن میں نماز کی آسانی
صحیح مسلم : ۱۶۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰۷
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ : أَذَّنَ مُؤَذِّنُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَوْمَ جُمُعَةٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَقَالَ : وَكَرِهْتُ أَنْ تَمْشُوا فِي الدَّحْضِ وَالزَّلَلِ .
عبداللہ بن حارث روایت:
عبداللہ بن حارث نے کہا جمعہ کے دن جس دن کہ مینہ تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے اذان دی، پھر ابن علیہ کے مانند حدیث ذکر کی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے پسند نہ آیا کہ تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۷ کا خلاصہ
اس روایت میں جمعہ کے دن بارش کا ذکر آیا ہے۔ عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے ایسے جمعہ کے دن اذان دی جس میں بارش تھی، پھر وہی مضمون بیان ہوا جو پچھلی روایت میں آیا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خاص طور پر کہا کہ مجھے پسند نہ آیا کہ تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔ اس سے بارش میں گھروں میں نماز اور اذان میں صلوا في بيوتكم کا مقصد واضح ہوتا ہے: لوگوں کو دینی کام میں بلا وجہ مشکل میں نہ ڈالنا۔ اس روایت میں اصل زور اس بات پر ہے کہ جب راستہ پھسلن والا ہو اور چلنا مشکل ہو تو لوگوں کی تکلیف کو دیکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کے دن بارش ہو تو راستے کی مشکل کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- کیچڑ اور پھسلن میں چلنے سے لوگوں کو بچانا مقصود تھا۔
- اذان یا اعلان کے ذریعے گھروں میں نماز کی بات واضح کی گئی۔
