صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۶ - روایت الفاظ

بارش میں نماز کی رخصت اور روایت کے الفاظ کی احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰۶

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ هُوَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَعَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، بهذا الإسناد ، ولم يذكر في حديثه يعني النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث منقول ہے مگر اس میں «يَعْنِى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ نہیں ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث اصل واقعے کی ایک اور سندی روایت ہے، اس لیے اس کا موضوع بھی بارش یا کیچڑ میں نماز کی رخصت ہی ہے۔ یہاں بتایا گیا کہ اوپر والی حدیث اسی سند سے منقول ہے، مگر اس روایت میں «يعني النبي صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ نہیں آئے۔ یہ فرق عام پڑھنے والے کو چھوٹا لگ سکتا ہے، لیکن حدیث کے متن میں الفاظ کی حفاظت کے لیے بہت اہم ہے۔ اس سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ روایت نقل کرتے وقت جو لفظ آیا ہو وہی بیان کیا جائے، اور جو لفظ کسی سند میں نہ ہو اسے الگ سے واضح کیا جائے۔ اصل سبق یہی رہتا ہے کہ مشقت والے دن، جیسے بارش یا پھسلن، لوگوں کو گھروں میں نماز کی سہولت دی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کے الفاظ میں فرق کو امانت کے ساتھ بیان کیا گیا۔
  • اصل مضمون بارش یا کیچڑ میں لوگوں پر آسانی کا ہے۔
  • جو لفظ کسی روایت میں نہ ہو اسے شامل کر کے بیان نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں