صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۵ - نماز رخصت
کیچڑ والے دن گھروں میں نماز: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت
صحیح مسلم : ۱۶۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰۵
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : الْجُمُعَةَ ، وَقَالَ : قَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وقَالَ أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بِنَحْوِهِ .
عبداللہ بن حارث روایت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیا بارش والے دن اور باقی ابن علیہ کے ہم معنی حدیث بیان کی اور اس میں جمعہ کا ذکر نہیں کیا اور کہا کہ یہ کام مجھ سے بہتر شخصیت نے کیا ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۵ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے خطبے کے واقعے کو بارش یا کیچڑ والے دن کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں ایسے دن خطبہ دیا جس میں راستہ گندا اور مشکل تھا۔ پھر انہوں نے وہی مضمون بیان کیا کہ لوگوں کو گھروں میں نماز پڑھنے کی ہدایت دی گئی۔ اس روایت میں جمعہ کا لفظ نہیں آیا، مگر یہ بات آئی کہ یہ کام مجھ سے بہتر شخصیت نے کیا ہے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ عام فہم انداز میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب موسم اور راستہ لوگوں کے لیے مشقت بن جائے تو نماز کے اعلان میں سہولت کا طریقہ موجود ہے۔ روایت کے الفاظ کے فرق کو بھی اپنی جگہ یاد رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بارش یا کیچڑ والے دن لوگوں کی مشکل کو دیکھا گیا۔
- گھروں میں نماز کا اعلان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے جوڑا گیا۔
- روایت میں جمعہ کا ذکر نہ آنے کو الگ لفظی فرق کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
