صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۲ - بارش کی رخصت

بارش کی رخصت اور اذان: اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰۲

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ ، وَقَالَ : أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، وَلَمْ يُعِدْ ثَانِيَةً ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ .

‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ضجنان جگہ پر اذان دی پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا اور اس میں کہا کہ تم لوگ اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور یہ جملہ دوبارہ نہیں کہا «أَلاَ صَلُّوا فِى الرِّحَالِ» یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جملہ ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۰۲ کا خلاصہ

اس روایت میں بھی بارش اور مشقت کے وقت نماز کی رخصت کا مضمون آتا ہے، مگر ایک چھوٹا سا لفظی فرق بھی بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ضجنان کے مقام پر اذان دی اور لوگوں سے کہا کہ اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ اس روایت میں یہ بات خاص طور پر آئی ہے کہ انہوں نے وہ جملہ دوبارہ نہیں دہرایا۔ راوی نے یہ بھی واضح کیا کہ «ألا صلوا في الرحال» کا جملہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ عام قاری کے لیے اس میں اہم بات یہ ہے کہ بارش یا سرد موسم میں، خاص طور پر سفر کے حال میں، لوگوں کو آسانی دینا ثابت ہے۔ ساتھ ہی روایت کے الفاظ کو احتیاط سے نقل کرنا بھی اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت کے الفاظ نقل کرتے وقت فرق کو واضح رکھنا چاہیے۔
  • بارش اور سردی میں لوگوں کو نماز کے لیے آسانی دی جا سکتی ہے۔
  • اذان کے آخر میں یا اعلان کے طور پر گھروں میں نماز کا پیغام دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں