سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۵ - غلاموں کی آزادی کا فیصلہ
آزادی اور انصاف کا فیصلہ
سنن ابن ماجہ : ۲۳۴۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۳۴۵
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً " .
عمران بن حصین روایت:
ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے (دو دو کے تین حصے) (اور قرعہ اندازی کر کے) دو کو (جن کے نام قرعہ نکلا) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے اپنے چھ غلام آزاد کیے تو نبی صلى الله عليه وسلم نے ان میں تقسیم کر کے کچھ کو آزاد کیا اور کچھ کو باقی رکھا۔ یہ فیصلہ انصاف کے اصول پر تھا تاکہ حقوق ضائع نہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں غلاموں کے حقوق اور عدل کا خیال رکھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلاموں کے حقوق کا خیال رکھا گیا
- انصاف کے مطابق فیصلہ کیا گیا
- مالی اور قانونی معاملات میں توازن ضروری ہے
