سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۶ - قسم اور قرعہ کا فیصلہ

قسم اور قرعہ سے فیصلہ

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۳۴۶

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا " .

ابوہریرہ روایت:

ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو افراد کے درمیان بیع کا جھگڑا ہوا اور گواہ نہ ہونے پر نبی صلى الله عليه وسلم نے قسم اور قرعہ کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ثبوت نہ ہونے کی صورت میں متوازن طریقہ اختیار کیا جاتا ہے تاکہ انصاف برقرار رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ثبوت نہ ہو تو قسم اور قرعہ اختیار کیا جا سکتا ہے
  • انصاف کے لیے متبادل طریقے موجود ہیں
  • جھگڑوں کو ختم کرنا مقصد ہے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں