سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۷ - سفر میں قرعہ اندازی

ازواج کے درمیان قرعہ کا اصول

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۳۴۷

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سفر کے وقت اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاف قائم رکھنے کے لیے غیر جانبدار طریقہ اختیار کرنا سنت ہے۔ اس سے کسی کے دل میں شکایت نہیں رہتی اور سب کے ساتھ برابری ہوتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فیصلوں میں انصاف ضروری ہے
  • قرعہ غیر جانبدار طریقہ ہے
  • سب کے حقوق برابر رکھے جاتے ہیں

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں