سنن ابن ماجہ حدیث ۲۷۹۹ - جہاد کے فضائل و احکام
سنن ابن ماجہ : ۲۷۹۹
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۷۹۹
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عز وجل سِتُّ خِصَالٍ : يَغْفِرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دُفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ ، وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ " .
مقدام بن معد یکرب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے یہاں شہید کے لیے چھ بھلائیاں ہیں:۱- خون کی پہلی ہی پھوار پر اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، اور جنت میں اس کو اپنا ٹھکانا نظر آ جاتا ہے۲- عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے،۳- حشر کی بڑی گھبراہٹ سے مامون و بےخوف رہے گا،۴- ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے،۵- حورعین سے نکاح کر دیا جاتا ہے،۶- اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے“۔
